إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو
۱؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ
“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 451] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، والتہجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/ الصلاة 205 (1043)، و346 (48 14)، سنن النسائی/قیام اللیل 1 (1599)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 186 (1377)، (تحفة الأشراف: 8010)، وکذا (8142)، مسند احمد (2/6، 16، 123) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے مراد نوافل اور سنن ہیں۔
۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں، اور جن گھروں میں نوافل وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ قبرستان کے مثل ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل و عبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (958 و 1302)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (958 و 1302)