مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ
وَرَوَاهُ سفيان الثوري، عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ مَا رُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي " صَلَاةِ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ، وَأَقَلُّ مَا وُصِفَ مِنْ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ تِسْعُ رَكَعَاتٍ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سفیان ثوری نے بھی یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے، ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 444] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»