مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْكَسَلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالَ: يَا بُنَيَّ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ، قَالَ: الْزَمْهُنَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُنَّ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے:
«اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں
“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3503] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11705) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
الحكم: صحيح الإسناد