بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 3483 — باب:۔۔۔
کتب جامع ترمذی کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار باب:۔۔۔ حدیث 3483
حدیث نمبر: 3483 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، شَبِيبِ بْنِ شَيْبَةَ ، الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: " يَا حُصَيْنُ، كَمْ تَعْبُدُ الْيَوْمَ إِلَهًا؟ " قَالَ أَبِي: سَبْعَةً سِتَّةً فِي الْأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟ " قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ، قَالَ: " يَا حُصَيْنُ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ "، قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِيَ الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي، فَقَالَ: " قُلِ اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10797) (ضعیف) (حسن بصری کا عمران بن حصین رضی الله عنہ سے لقاع و سماع نہیں ہے، نیز ”شبیب بن شیبہ“ مجہول راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف، المشكاة (2476 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4098) القسم الأخير //
قال الشيخ زبير على زئي
(3483) إسناده ضعيف
الحسن عنعن (تقدم:21)
الحكم: ضعيف، المشكاة (2476 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4098) القسم الأخير //
← پچھلی حدیث (3482) باب پر واپس اگلی حدیث (3484) →