مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو مَرْحُومٍ ، سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا:
«الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ”تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3458] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ اللباس 1 (4023)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3285) (تحفة الأشراف: 11297)، وسنن الدارمی/الاستئذان 55 (2732) (حسن) (سنن ابی داود میں: وما تأخر آخر میں آیا ہے، جو صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (3285)
الحكم: حسن، ابن ماجة (3285)