عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، سَيَّارٌ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي، قَالَ: " زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى "، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: " وَغَفَرَ ذَنْبَكَ "، قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: " وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا:
”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے
“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا:
”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے
“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا:
”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر (بھلائی کے کام) آسان کر دے
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 3444] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 274) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح الكلم الطيب (170 / 123 / التحقيق الثاني)
الحكم: حسن صحيح الكلم الطيب (170 / 123 / التحقيق الثاني)