بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2850 — باب: شعر پڑھنے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: اسلامی اخلاق و آداب باب: شعر پڑھنے کا بیان۔ حدیث 2850
حدیث نمبر: 2850 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سو بار سے زیادہ بیٹھنے کا شرف حاصل ہے، آپ کے صحابہ شعر پڑھتے (سنتے و سناتے) تھے، اور جاہلیت کی بہت سی باتیں باہم ذکر کرتے تھے۔ آپ چپ بیٹھے رہتے اور کبھی کبھی ان کے ساتھ مسکرانے لگتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسے زہیر بھی نے سماک سے روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر الشمائل (211)
الحكم: صحيح مختصر الشمائل (211)
← پچھلی حدیث (2849) باب پر واپس اگلی حدیث (2851) →