بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2655 — باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: علم اور فہم دین باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان۔ حدیث 2655
حدیث نمبر: 2655 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا لِغَيْرِ اللَّهِ أَوْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللَّهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " , وفي الباب عن جَابِرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کو غیر اللہ کے لیے سیکھا یا وہ اس علم کے ذریعہ اللہ کی رضا کے بجائے کچھ اور حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسا شخص اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے ایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المقدمة 33 (258) (تحفة الأشراف: 6712) (ضعیف) (سند میں خالد اور ابن عمر رضی الله عنہما کے درمیان انقطاع ہے)»
وضاحت
۱؎: علم دین اس لیے سیکھا جاتا ہے ہے کہ اس سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کی جائے، لیکن اگر اس علم سے اللہ کی رضا و خوشنودی مقصود نہیں بلکہ اس سے جاہ و منصب یا حصول دنیا مقصود ہے تو ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف، ابن ماجة (258) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (54) ، ضعيف الجامع (5530 و 5687) //
قال الشيخ زبير على زئي
(2655) إسناده ضعيف / جه 258
خالد بن دريك لم يدرك ابن عمر رضى الله عنه (تحفة الاشراف 342/5)
الحكم: ضعيف، ابن ماجة (258) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (54) ، ضعيف الجامع (5530 و 5687) //
← پچھلی حدیث (2654) باب پر واپس اگلی حدیث (2656) →