بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 2654 — باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: علم اور فہم دین باب: علم (دین) سے دنیا حاصل کرنے والے کا بیان۔ حدیث 2654
حدیث نمبر: 2654 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ ، أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ، تُكُلِّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص علم اس واسطے سیکھے کہ اس کے ذریعہ علماء کی برابری کرے ۱؎، کم علم اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرے یا اس علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۳- اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ محدثین کے نزدیک کچھ بہت زیادہ قوی نہیں ہیں، ان کے حافظہ کے سلسلے میں کلام کیا گیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11140) (حسن) (سند میں اسحاق ضعیف ہیں شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان کے ساتھ بحث و مناظرہ کرے ان پر اپنی علمیت و قابلیت کا سکہ جمائے۔
۲؎: معلوم ہوا کہ علم دین حاصل کرنے والے کی نیت صالح ہونی چاہیئے، وہ کسی دنیاوی حرص و طمع کے بغیر اس کے حصول کی کوشش کرے، کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ جنت کی خوشبو تک سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (223 - 225) ، التعليق الرغيب (1 / 68)
قال الشيخ زبير على زئي
(2654) إسناده ضعيف
إسحاق بن يحيي ضعيف (تق: 390) وللحديث شواهد ضعيفة عند ابن ماجه (253) وغيره
الحكم: حسن، المشكاة (223 - 225) ، التعليق الرغيب (1 / 68)
← پچھلی حدیث (2653) باب پر واپس اگلی حدیث (2655) →