سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ ، الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، سَالِمٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ سَالِمٌ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2395] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الأدب 19 (4832) (تحفة الأشراف: 4049 و 4399)، و مسند احمد (3/38) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مسلمان دنیا میں رہتے ہوئے اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، یہاں تک کہ کھانے کی دعوت دیتے وقت ایسے لوگوں کا انتخاب کرے جو متقی و پرہیزگار ہوں، کیونکہ دعوت سے آپسی الفت و محبت میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے کوشش یہ ہو کہ الف و محبت کسی پرہیزگار شخص سے ہو۔
قال الشيخ الألباني
حسن، المشكاة (5018)
الحكم: حسن، المشكاة (5018)