عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: " مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ هَذَا كُوفِيٌّ، وَأَبُو بُكَيْرٍ وَالِدُ يَحْيَى رَوَى لَهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ مِصْرِيٌّ صَاحِبُ اللَّيْثِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر سے جو کی روٹی (اہل خانہ کی) ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے،
۲- یحییٰ بن ابی بکیر کوفی ہیں، ابوبکیر جو یحییٰ کے والد ہیں سفیان ثوری نے ان کی حدیث روایت کی ہے،
۳- یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر مصری ہیں اور لیث کے شاگرد ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2359] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4870)، وانظر مسند احمد (5/253) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی گھر میں آٹے کی مقدار اتنی کم ہوتی تھی کہ اس سے بمشکل آپ کے گھر والوں کی ضرورت پوری ہوتی، کیونکہ یہ لوگ دوسروں کو ہمیشہ اپنے پر ترجیح دیتے تھے اور «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» (الحشر: ۹) کا کامل نمونہ تھے، بقدر کفاف زندگی گزارنا پسند کرتے تھے، اسی لیے جو کی روٹی بھی ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مختصر الشمائل (124) ، التعليق الرغيب (4 / 110)
الحكم: صحيح مختصر الشمائل (124) ، التعليق الرغيب (4 / 110)