عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَكُونُ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَتَكُونُ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَيَكُونُ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَتَكُونُ السَّاعَةُ كَالضَّرَمَةِ بِالنَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”قیامت نہیں قائم ہو گی یہاں تک کہ زمانہ قریب ہو جائے گا
۱؎ سال ایک مہینہ کے برابر ہو جائے گا جب کہ ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک ساعت (گھڑی) کے برابر ہو جائے گا اور ایک ساعت (گھڑی) آگ سے پیدا ہونے والی چنگاری کے برابر ہو جائے گی
“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
[سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 2332] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 846) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: زمانہ قریب ہو جائے گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ یا تو اس کی برکتیں کم ہو جائیں گی اور فائدہ کی بجائے نقصانات زیادہ ہوں گے یا اس طرف اشارہ ہے کہ لوگ دنیاوی مشاغل میں اس قدر منہمک و مشغول ہوں گے کہ انہیں دن اور رات کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہو گا (دوسرے ٹکڑے سے متعلق حدیث اگلے باب میں آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، المشكاة (5448 / التحقيق الثانى)
الحكم: صحيح، المشكاة (5448 / التحقيق الثانى)