قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَاتَتْ شَاةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِهَا: " أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بکری مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5969)، وانظر: صحیح البخاری/الزکاة 61 (1492)، والبیوع 101 (2221)، والذبائح 30 (5531، 5532)، صحیح مسلم/الحیض 27 (363-365)، سنن ابی داود/ اللبا41 (4121)، سنن النسائی/الفرع 4 (4240-4244)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3610)، وط/الصید 6 (16)، مسند احمد (1/237)، 327، 330، 365، 366، 372)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2028) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جا سکتا ہے، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610)