أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”بندہ کے اختیار میں جو چیز نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
[سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1527] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأدب 44 (6047)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (110)، سنن ابی داود/ الأیمان 9 (3257)، سنن النسائی/الأیمان 7 (3801)، و 31 (3844)، (تحفة الأشراف: 2062)، و مسند احمد (4/33) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی نذر مانتے وقت جو چیز بندے کے اختیار میں نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر اس چیز پر اختیار حاصل ہو جائے تو بھی وہ نذر پوری نہیں کی جائے گی، اور نہ ہی اس پر کفارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، الإرواء (2575)
الحكم: صحيح، الإرواء (2575)