بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1376 — باب: وقف کا بیان۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے باب: وقف کا بیان۔ حدیث 1376
حدیث نمبر: 1376 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ , صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ , وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ , وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ۱؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ۲؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ۳؎ جو اس کے لیے دعا کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الوصایا 3 (1631)، سنن ابی داود/ الوصایا 14 (2880)، سنن النسائی/الوصایا 8 (3681)، (تحفة الأشراف: 13975)، و مسند احمد (2/316، 350، 372)، وسنن الدارمی/المقدمة 46 (578) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: صدقہ جاریہ یعنی ایسا صدقہ جس کو عوام کی بھلائی کے لیے وقف کر دیا جائے، مثلاً سرائے کی تعمیر، کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مساجد و مدارس اور یتیم خانوں کی تعمیر کروانا، اسپتال کی تعمیر، پل اور سڑک وغیرہ بنوانا، ان میں سے جو کام بھی وہ اپنی زندگی میں کر جائے یا اس کے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ سب صدقہ جاریہ میں شمار ہوں گے۔
۲؎: علم میں لوگوں کو تعلیم دینا، طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس دعوت و تبلیغ کا سلسلہ قائم کرنا، مدارس کی تعمیر کرنا، دینی کتب کی طباعت اور ان کی نشر و اشاعت کا بندوبست کرنا وغیرہ امور سبھی داخل ہیں۔
۳؎: نیک اولاد میں بیٹا، بیٹی پوتا، پوتی، نواسا نواسی وغیرہ کے علاوہ روحانی اولاد بھی شامل ہے جنہیں علم دین سکھایا ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1375) باب پر واپس اگلی حدیث (1377) →