بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

جامع ترمذی

حدیث نمبر: 1359 — باب: جس کی کوئی چیز توڑ دی جائے تو توڑنے والے کے مال سے اس کا تاوان لیا جائے گا۔
کتب جامع ترمذی کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے باب: جس کی کوئی چیز توڑ دی جائے تو توڑنے والے کے مال سے اس کا تاوان لیا جائے گا۔ حدیث 1359
حدیث نمبر: 1359 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: أَهْدَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ , فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا , فَأَلْقَتْ مَا فِيهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَعَامٌ بِطَعَامٍ , وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ رضی الله عنہا نے (غصے میں) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 677)، وراجع: صحیح البخاری/المظالم 34 (2481)، والنکاح 107 (5225)، سنن ابی داود/ البیوع 91 (3567)، سنن النسائی/عشرة النساء 4 (3407)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 14 (2334)، مسند احمد (3/105، 263)، سنن الدارمی/البیوع 58 (2640) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی کوئی چیز کسی سے تلف ہو جائے تو وہ ویسی ہی چیز تاوان میں دے اور جب اس جیسی چیز دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا اس کے ذمہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (2334)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (2334)
← پچھلی حدیث (1358) باب پر واپس اگلی حدیث (1360) →