حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”ائْذَنُوا لَهُ، بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ“، فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ الْكَلاَمَ، قَالَ: ”أَيْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ - أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ - اتِّقَاءَ فُحْشِهِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔“ چنانچہ جب وہ اندر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس آدمی کے بارے میں جو فرمایا سو فرمایا: پھر آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! لوگوں میں سے بدترین وہ آدمی ہے جسے لوگ اس کی بدکلامی اور بدزبانی سے بچنے کے لیے چھوڑ دیں۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب لم يكن النبى صلى الله عليه و آله وسلم فاحشًا: 6054 و مسلم: 2591 و أبوداؤد: 4791 و الترمذي: 1996»
الحكم: صحيح