بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جسے تکیہ پیش کیا جائے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب جسے تکیہ پیش کیا جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1176 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ قَالَ‏:‏ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي‏: ”أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏: ”خَمْسًا“، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏: ”سَبْعًا“، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏: ”تِسْعًا“، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏: ”إِحْدَى عَشْرَةَ“، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏: ”لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکیہ پیش کیا۔ وہ تکیہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں ہر مہینے تین روزے کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (یہ تھوڑے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ روزے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! (تھوڑے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سات رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (یہ کم ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نو رکھ لو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (نو بھی کم ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گیارہ۔ میں عرض کیا: اللہ کے رسول! (گیارہ بھی کم ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: داؤد علیہ السلام کے روزوں سے اوپر کوئی روزے نہیں، اور وہ ہیں آدھے سال کے روزے، اس طرح کہ ایک دن کا روزہ اور ایک دن افطار۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاستئذان: 6277 و مسلم: 1512 و النسائي: 2402»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1177 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِيهِ، فَأَلْقَى لَهُ قَطِيفَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے باپ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے (بیٹھنے کی درخواست کی اور) چادر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے بچھائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الطيالسي: 1375 و الطبراني فى الدعا: 920»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح