حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا حَيٍّ الْمُؤَذِّنَ حَدَّثَهُ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى جَوْفِ بَيْتٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ دَخَلَ. وَلاَ يَؤُمُّ قَوْمًا فَيَخُصُّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ حَتَّى يَنْصَرِفَ. وَلاَ يُصَلِّي وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ“. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: أَصَحُّ مَا يُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ هَذَا الْحَدِيثُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اجازت لینے سے پہلے کسی گھر میں جھانکے، اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بغیر اجازت کے اندر داخل ہوگیا۔ اور جب کوئی شخص امامت کروائے تو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اپنے لیے خصوصی دعا نہ کرے (بلکہ ہر دعا میں مقتدیوں کو بھی شامل کرے)، نیز کوئی شخص اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب پاخانہ روکے ہوئے ہو، یہاں تک کہ (اس سے) ہلکا ہو جائے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1093]
تخریج الحدیث
«صحيح دون جملة الإمامة: أخرجه أبوداؤد، كتاب الطهارة: 90 و الترمذي، الصلاة: 357»
قال الشيخ الألباني
صحيح دون جملة الإمامة
الحكم: صحيح دون جملة الإمامة