حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَفْهَمَنِي بَعْضَهُ عَنْهُ أَبُو حَفْصِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ حَنْبَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَتْحِ بِلَبَنٍ وَجِدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: يَعْنِي الْبَقْلَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى الْوَادِي، وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ، فَقَالَ: ”ارْجِعْ، فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، أَأَدْخُلُ؟“، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ. قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا عَنْ كَلَدَةَ، وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے فتح مکہ کے موقع پر دودھ، بھنا ہوا ہرن کا بچہ اور کچھ ترکاریاں دے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا। نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت وادی مکہ کے بالائی حصے میں تھے۔ میں سلام اور اجازت لیے بغیر ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جاؤ اور کہو: «السلام علیکم» ! کیا میں اندر آجاؤں؟“ یہ صفوان کے مسلمان ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ عمرو بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ امیہ بن صفوان نے بھی مجھے واقعہ سیدنا کلدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ میں نے سیدنا کلدہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب: 5176 و الترمذي: 2710 - أنظر الصحيحة: 818»
الحكم: صحيح