بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بے آباد گھر میں داخل ہونا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الاستئذان بے آباد گھر میں داخل ہونا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1055 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَعْنٌ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ‏:‏ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرَ الْمَسْكُونِ فَلْيَقُلِ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کوئی بے آباد گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کہے: «السلام علينا» ...... سلام ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه ابن أبى شيبة: 25835»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1056 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ ﴿لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا‏﴾ [النور: 27] ، وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ‏: ﴿‏لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ‏﴾ [النور: 29] ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: «لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا» [سورہ النور: 27] اپنے گھر کے سوا کسی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام کہو۔ اس آیت سے یہ حکم مستثنیٰ ہے جو درج ذیل آیت میں ہے: «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ» [سورہ النور: 29] تم پر کوئی گناه نہیں کہ اگر تم ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جن میں کوئی نہیں رہتا اور اس گھر میں تمہارا سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الاسْتِئْذَانُ/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الطبراني فى تفسيره: 147/19»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح