بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عورتوں کو سلام کہنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السلام عورتوں کو سلام کہنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1047 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ، وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، قَالَ بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلاَمِ، فَقَالَ‏: ”إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ، إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ“، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ‏:‏ نَعُوذُ بِاللَّهِ، يَا نَبِيَّ اللهِ، مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولُ‏:‏ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ سَاعَةً خَيْرًا قَطُّ، فَذَلِكَ كُفْرَانُ نِعَمِ اللهِ، وَذَلِكَ كُفْرَانُ نِعَمِ الْمُنْعِمِينَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد سے گزرے تو وہاں عورتوں کا جتھا بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور فرمایا: احسان کرنے والوں کی ناشکری سے بچو، احسان کرنے والوں کی ناشکری مت کرو۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یقیناً ایسا کرتی ہو، تم میں سے کسی کے کنوارے پن کا زمانہ طویل ہو جاتا ہے (اور پھر شادی ہوتی ہے) اور شوہر پر غصہ آتا ہے تو کہتی ہے: اللہ کی قسم! میں نے اس سے کبھی لمحہ بھر بھی خیر نہیں پائی۔ یہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے، اور یہ احسان کرنے والوں کی احسان فراموشی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث
«صحيح: مسند أحمد: 457/6»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1048 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّةِ، مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي جِوَارِ أَتْرَابٍ لِي، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ‏: ”إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ“، وَكُنْتُ مِنْ أَجْرَئِهِنَّ عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ‏؟‏ قَالَ‏: ”لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا مِنْ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ زَوْجًا، وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ وَلَدًا، فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرُ فَتَقُولُ‏:‏ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور فرمایا: انعام و اکرام والوں کی ناشکری سے بچو۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرنے میں ان سب سے زیادہ جری تھی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! منعمین کی ناشکری کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا ماں باپ کے درمیان بے شوہر رہنے کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو شوہر دیتا ہے اور اس سے اولاد دیتا ہے، پھر غصہ میں آجاتی ہے تو ناشکری کرتے ہوئے کہتی ہے: میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث
«صحيح: مسند أحمد: 452/6»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح