حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّةِ، مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي جِوَارِ أَتْرَابٍ لِي، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ: ”إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ“، وَكُنْتُ مِنْ أَجْرَئِهِنَّ عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ قَالَ: ”لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا مِنْ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ زَوْجًا، وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ وَلَدًا، فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرُ فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور فرمایا: ”انعام و اکرام والوں کی ناشکری سے بچو۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرنے میں ان سب سے زیادہ جری تھی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! منعمین کی ناشکری کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا ماں باپ کے درمیان بے شوہر رہنے کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو شوہر دیتا ہے اور اس سے اولاد دیتا ہے، پھر غصہ میں آجاتی ہے تو ناشکری کرتے ہوئے کہتی ہے: میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث
«صحيح: مسند أحمد: 452/6»
الحكم: صحيح