بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تعجب کے وقت اپنی ران یا کسی چیز پر ہاتھ مارنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب تعجب کے وقت اپنی ران یا کسی چیز پر ہاتھ مارنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 955 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ ”أَلاَ تُصَلُّونَ‏؟“‏ فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا عِنْدَ اللهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، ثُمَّ سَمِعْتُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ يَقُولُ‏: ”﴿‏وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً‏﴾“ [الکھف: 54] .
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم (تہجد کی) نماز نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو صرف اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ چاہتا ہے ہمیں اٹھا دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور مجھے کچھ نہ کہا۔ پھر میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس جاتے ہوئے ہاتھ ران پر مارتے ہوئے (یہ آیت تلاوت) فرما رہے تھے: «وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا» [الکھف: 54] اور آدمی سب سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 955]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح البخاري، الجمعة، ح: 1127»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 956 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ‏:‏ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَتَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَكُونُ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْمَأْثَمُ‏؟‏ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ، فَلاَ يَمْشِي فِي نَعْلِهِ الأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهُ‏.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو رزین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا، اور وہ فرما رہے تھے۔ اے اہل عراق! کیا تم سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں؟ کیا تمہارے لیے لذت اور راحت ہو اور مجھ پر گناہ ہو؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی (کے جوتے) کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے (ایک) جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اس کو درست کر لے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 956]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح مسلم، اللباس و الزينة، ح: 2098»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح