حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَتَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَكُونُ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْمَأْثَمُ؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ، فَلاَ يَمْشِي فِي نَعْلِهِ الأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو رزین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا، اور وہ فرما رہے تھے۔ اے اہل عراق! کیا تم سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں؟ کیا تمہارے لیے لذت اور راحت ہو اور مجھ پر گناہ ہو؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی (کے جوتے) کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے (ایک) جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اس کو درست کر لے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 956]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح مسلم، اللباس و الزينة، ح: 2098»
الحكم: صحيح