بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تمام معاملات میں سنجیدگی اور وقار اختیار کرنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب تمام معاملات میں سنجیدگی اور وقار اختیار کرنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 888 الادب المفرد
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلِيٍّ قَالَ‏:‏ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَنَاجَى أَبِي دُونِي، قَالَ‏:‏ فَقُلْتُ لأَبِي‏:‏ مَا قَالَ لَكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِذَا أَرَدْتَ أَمْرًا فَعَلَيْكَ بِالتُّؤَدَةِ حَتَّى يُرِيَكَ اللَّهُ مِنْهُ الْمَخْرَجَ، أَوْ حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَكَ مَخْرَجًا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
بلیّ قبیلے کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے چھوڑ کر میرے والد سے سرگوشی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے کیا سرگوشی کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کوئی کام کرنا چاہو تو سنجیدگی اور وقار کے ساتھ کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس کام سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھا دے۔ یا فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 888]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى شيبة: 25312 و الحارث فى مسنده كما فى البغية: 867 و البيهقي فى شعب الإيمان: 1187 - أنظر الصحيحة: 2307»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 889 الادب المفرد
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ‏:‏ لَيْسَ بِحَكِيمٍ مَنْ لاَ يُعَاشِرُ بِالْمَعْرُوفِ مَنْ لاَ يَجِدُ مِنْ مُعَاشَرَتِهِ بُدًّا، حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا أَوْ مَخْرَجًا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
محمد ابن الحنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہے بغیر چارہ نہ ہو، ان کے ساتھ اچھے طریقے سے نہ رہنے والا حکیم اور دانا نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ جن کے ساتھ رہنا ضروری ہو، ان کے ساتھ گزارہ کرتا رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راہ نکال دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 889]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 35704 و ابن أبى الدنيا فى الحلم: 108 والبيهقي فى الآداب: 224 و ابن المقري فى معجمه: 491 و أبونعيم فى الحلية: 175/3»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح