حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلِيٍّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَنَاجَى أَبِي دُونِي، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي: مَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: ”إِذَا أَرَدْتَ أَمْرًا فَعَلَيْكَ بِالتُّؤَدَةِ حَتَّى يُرِيَكَ اللَّهُ مِنْهُ الْمَخْرَجَ، أَوْ حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَكَ مَخْرَجًا.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
بلیّ قبیلے کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے چھوڑ کر میرے والد سے سرگوشی کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے کیا سرگوشی کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کوئی کام کرنا چاہو تو سنجیدگی اور وقار کے ساتھ کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس کام سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھا دے۔“ یا فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 888]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن أبى شيبة: 25312 و الحارث فى مسنده كما فى البغية: 867 و البيهقي فى شعب الإيمان: 1187 - أنظر الصحيحة: 2307»
الحكم: ضعيف