بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اچھے اور برے کلام کی طرح شعر بھی اچھے برے ہوتے ہیں
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الشعر اچھے اور برے کلام کی طرح شعر بھی اچھے برے ہوتے ہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 864 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةٌ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شعروں میں کچھ شعر حکمت پر مبنی ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 864]
تخریج الحدیث
«صحيح: أنظر الحديث رقم: 858»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 865 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلاَمِ، حَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلامِ، وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِ الْكَلامِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شعر کلام کی طرح ہیں، اچھے شعر اچھے کلام کی طرح ہیں، اور برے شعر برے کلام کی طرح ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 865]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الطبراني فى الأوسط: 7696 و الدارقطني: 274/5 - أنظر الصحيحة: 447»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 866 الادب المفرد
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ‏:‏ الشِّعْرُ مِنْهُ حَسَنٌ وَمِنْهُ قَبِيحٌ، خُذْ بِالْحَسَنِ وَدَعِ الْقَبِيحَ، وَلَقَدْ رَوَيْتُ مِنْ شِعْرِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَشْعَارًا، مِنْهَا الْقَصِيدَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ بَيْتًا، وَدُونَ ذَلِكَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتی تھیں: شعروں میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ اچھے شعر لے لو اور برے شعر چھوڑ دو۔ میں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے شعروں میں سے کئی شعر روایت کیے ہیں۔ ان میں سے ایک قصیدہ ہے جس میں چالیس بیت ہیں اور اس کے علاوہ بھی ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 866]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبويعلي: 4741 و الدارقطني: 4306 و البيهقي فى الكبرىٰ: 239/10 - انظر الصحيحة: 448»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 867 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا‏:‏ أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ‏؟‏ فَقَالَتْ‏:‏ كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنْ شِعْرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ‏:‏ ”وَيَأْتِيكَ بِالأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی شعر پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عبداللہ بن رواحہ کے شعروں میں سے بطور مثل پڑھا کرتے تھے: تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے تیار نہیں کیا ہوگا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 867]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب الأدب، باب ماجاء فى إنشاد الشعر: 2848 و النسائي فى الكبرىٰ: 10769 - انظر الصحيحة: 2057»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 868 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ الأَسْوَدَ بْنَ سَرِيعٍ حَدَّثَهُ قَالَ‏:‏ كُنْتُ شَاعِرًا فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، امْتَدَحْتُ رَبِّي، فَقَالَ‏:‏ ”أَمَا إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ الْحَمْدَ“، وَمَا اسْتَزَادَنِي عَلَى ذَلِكَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں شاعر تھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے (شعروں میں) اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، بلاشبہ تیرا رب حمد کو پسند کرتا ہے। آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے زیادہ مجھے کچھ نہ فرمایا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الشِّعْرِ/حدیث: 868]
تخریج الحدیث
«حسن: أنظر الحديث رقم: 859»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن