حَدَّثَنَا عِصَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ الأَلَهَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ بِجَمْعٍ مِنَ الْمَجَامِعِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ أَقْوَامًا يَلْعَبُونَ بِالْكُوبَةِ، فَقَامَ غَضْبَانَ يَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ إِنَّ اللاَّعِبَ بِهَا لَيَأْكُلُ ثَمَرَهَا، كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمُتَوَضِّئٍ بِالدَّمِ. يَعْنِي بِالْكُوبَةِ: النَّرْدَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی مجمع میں تھے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ شطرنج کھیلتے ہیں۔ وہ وہاں سے بڑی سختی سے منع کرتے ہوئے غضبناک ہو کر اٹھے، پھر فرمایا: خبردار! شطرنج کھیلنے والا تاکہ اس کی کمائی کھائے، خنزیر کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور اس کے خون کے ساتھ وضو کرنے والے کی طرح ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الأقوال/حدیث: 788]
تخریج الحدیث
«ضعيف:»
الحكم: ضعيف