بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مردہ شخص کی غیبت کی ممانعت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب مردہ شخص کی غیبت کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 737 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْهَضْهَاضِ الدَّوْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الأَسْلَمِيُّ، فَرَجَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَجُلانِ مِنْهُمْ: إِنَّ هَذَا الْخَائِنَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرُدُّهُ، حَتَّى قُتِلَ كَمَا يُقْتَلُ الْكَلْبُ، فَسَكَتَ عَنْهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلَةٌ رِجْلُهُ، فَقَالَ: ”كُلا مِنْ هَذَا“، قَالا: مِنْ جِيفَةِ حِمَارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”فَالَّذِي نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَكْثَرُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، فَإِنَّهُ فِي نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَغَمَّسُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ آئے اور زنا کی وجہ سے سزا نافذ کرنے کی درخواست کی۔ چوتھی مرتبہ آنے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کر دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ ان کے پاس سے گزرے تو صحابہ میں سے دو آدمیوں نے کہا: یہ خائن خود بار بار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر بار اسے واپس کرتے رہے حتی کہ کتے کی موت مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مردہ گدھے کے پاس سے گزرے، پھول جانے کی وجہ سے اس کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اس میں سے کھاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: (کیا) مردہ گدھے میں سے کھائیں؟ اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ جو تم نے ابھی ابھی اپنے بھائی کی غیبت کی ہے، وہ اس سے زیادہ برا کام ہے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں غوطے مار رہا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 737]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أبوداؤد، كتاب الحدود: 4428 و النسائي فى الكبرىٰ: 7127 - انظر الضعيفة: 6318»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف