حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيِّ، سَمِعْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، يَقُولُ: مَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَنَصَرهُ جَزَاهُ اللَّهُ بِهَا خَيْرًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ يَنْصُرْهُ جَزَاهُ اللَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ شَرًّا، وَمَا الْتَقَمَ أَحَدٌ لُقْمَةً شَرًّا مِنَ اغْتِيَابِ مُؤْمِنٍ، إِنْ قَالَ فِيهِ مَا يَعْلَمُ، فَقَدِ اغْتَابَهُ، وَإِنْ قَالَ فِيهِ بِمَا لا يَعْلَمُ فَقَدْ بَهَتَهُ۔
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جس کی موجودگی میں کسی مومن کی غیبت کی گئی اور اس نے اس کی مدد کی اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں جزا دے گا۔ اور جس کی موجودگی میں کسی مسلمان کی غیبت کی گئی اور اس نے مدد نہ کی، یعنی دفاع نہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں برا بدلہ دے گا۔ اور کسی نے مومن کی غیبت سے بڑھ کر کوئی برا لقمہ منہ میں نہیں لیا۔ اگر اس نے ایسی بات کی جو وہ جانتا ہے تو اس نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس نے ایسی بات کی جو اس کو معلوم نہیں تو اس نے اس پر بہتان لگایا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 734]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن وهب فى الجامع: 311»
الحكم: صحيح