بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دعا کرنے والے کے لیے اجر و ثواب کے ذخیرہ ہونے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب دعا کرنے والے کے لیے اجر و ثواب کے ذخیرہ ہونے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 710 الادب المفرد
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو، لَيْسَ بِإِثْمٍ وَلا بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ، إِلا أَعْطَاهُ إِحْدَى ثَلاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَدْفَعَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا“، قَالَ: إِذًا يكثرِ، قَالَ: ”اللَّهُ أَكْثَرُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی دعا کرتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ یا قطع رحمی کی نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے: یا تو اس کی دعا سوال کے مطابق اسی وقت قبول ہو جاتی ہے، یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے، یا اس جیسی کوئی تکلیف جو پہنچنے والی ہوتی ہے، اسے دور کر دیتا ہے۔ راوی نے کہا: تب تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 710]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن الجعد فى مسنده: 3282 و أحمد: 11133 و ابن أبى شيبة: 22/6 و عبد بن حميد: 937 - انظر صحيح الترغيب: 1633»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 711 الادب المفرد
حَدَّثَنَا ابْنُ شَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَنْصُبُ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ يَسْأَلُهُ مَسْأَلَةً، إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، إِمَّا عَجَّلَهَا لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِمَّا ذَخَرَهَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مَا لَمْ يَعْجَلْ“، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجَلَتُهُ؟ قَالَ: ”يَقُولُ: دَعَوْتُ وَدَعَوْتُ، وَلا أُرَاهُ يُسْتَجَابُ لِي.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن اللہ کی طرف متوجہ ہو کر کوئی سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے۔ یا تو دنیا ہی میں سوال کے مطابق عطا فرماتا ہے، یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے جب تک بندہ جلد بازی نہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جلد بازی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ کہتا ہے: میں نے دعا کی، پھر دعا کی، لیکن دعا قبول ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 711]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 9785 و الحاكم: 497/1 و البيهقي فى الدعوات الكبير: 378»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح