بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ظالم کے لیے بد دعا کرنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب ظالم کے لیے بد دعا کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 649 الادب المفرد
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي سَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَيْنِ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي، وَأَرِنِي مِنْهُ ثَأْرِي.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! میرے لیے میرے کانوں اور میری آنکھوں کو درست رکھنا اور انہیں آخری دم تک قائم رکھنا۔ جو مجھ پر ظلم کرے اس کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا انتقام مجھے دکھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 649]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البزار: 3194، كشف، انظر الصحيحة: 3170»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 650 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، وَانْصُرْنِي عَلَى عَدُوِّي، وَأَرِنِي مِنْهُ ثَأْرِي.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میرے لیے میرے کان اور بصارت نفع بخش بنا اور انہیں تاحیات سلامت رکھنا۔ اور میرے دشمن کے خلاف میری مدد فرما اور مجھے اس سے میرا انتقام دکھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 650]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب الدعوات: 3604 - انظر الصحيحة: 3170»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 651 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ الأَشْجَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كُنَّا نَغْدُو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ إِذَا صَلَّيْتُ؟ فَيَقُولُ: ”قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، فَقَدْ جَمَعَتْ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ.“
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، وَلَمْ يَذْكُرْ: إِذَا صَلَّيْتَ. وَتَابَعَهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جایا کرتے تھے، کبھی کوئی مرد آ جاتا اور کبھی عورت آتی، اور وہ کہتے: اے اللہ کے رسول! میں نماز پڑھوں تو کیسے دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: تم یوں کہو: اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما، یوں تیرے لیے دنیا و آخرت کی خیر جمع ہو گئی۔ ابو مالک کے طریق سے بھی سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے۔ عبدالواحد اور یزید بن ہارون نے بھی نماز کے ذکر کے بغیر بیان کیا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 651]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الذكر و الدعاء: 2697 و ابن ماجه: 3845 - انظر الصحيحة: 1318»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح