بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 640 الادب المفرد
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”أَيُّمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ صَدَقَةٌ، فَلْيَقُلْ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، فَإِنَّهَا لَهُ زَكَاةٌ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان آدمی کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں کہے: اے اللہ تو رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بندے اور رسول پر، اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر، نیز مسلمان مردوں اور عورتوں پر رحمت نازل فرما۔ تو یہ اس کے لیے زکاۃ ہو گی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 640]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه ابن حبان: 903 و الحاكم: 129/4، 130 و البيهقي فى الآداب: 1097 و أبويعلى: 1397»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 641 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”مَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، وَتَرَحَّمْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا تَرَحَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ، شَهِدْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالشَّهَادَةِ، وَشَفَعْتُ لَهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کہا: اے اللہ تو رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد پر، جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر۔ اور تو رحم فرما محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم پر، تو میں اس کے لیے قیامت کے دن شہادت دوں گا اور شفاعت کروں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 641]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه الشجرى فى أماليه: 163/1، اس ميں سعيد بن عبدالرحمٰن راوي مجهول هے.»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 642 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، وَمَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَتَبَرَّزُ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يَتْبَعُهُ، فَخَرَجَ عُمَرُ فَاتَّبَعَهُ بِفَخَّارَةٍ أَوْ مِطْهَرَةٍ، فَوَجَدَهُ سَاجِدًا فِي مِسْرَبٍ، فَتَنَحَّى فَجَلَسَ وَرَاءَهُ، حَتَّى رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: ”أَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ، حِينَ وَجَدْتَنِي سَاجِدًا فَتَنَحَّيْتَ عَنِّي، إِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي، فَقَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس اور سیدنا مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے تو ساتھ جانے کے لیے کسی کو ساتھ نہ پایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے کوزے وغیرہ میں پانی لے کر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک راستے یا چبوترے پر بحالت سجدہ پایا تو پیچھے ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سجدہ پورا کیا، پھر فرمایا: عمر! تم نے بہت اچھا کیا کہ مجھے حالت سجدہ میں دیکھ کر ایک طرف ہٹ گئے۔ بلاشبہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: جو آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس درجے بھی بلند کر دے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 642]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه الجهضمى فى فضل الصلاة: 4 و ابن ماسي فى فوائده: 83/1 و أبونعيم فى معرفة الصحابة: 984 - انظر الصحيحة: 829»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 643 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کی دس خطائیں مٹا دے گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 643]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه النسائي، كتاب السهو، باب الفضل فى الصلاة على النبى صلى الله عليه و آله وسلم: 1297 - انظر الصحيحة: 829»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح