بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کاموں میں سنجیدگی اختیار کرنا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب کاموں میں سنجیدگی اختیار کرنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 584 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ‏:‏ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”إِنَّ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ“، قُلْتُ‏:‏ وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللهِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”الْحِلْمُ وَالْحَيَاءُ“، قُلْتُ‏:‏ قَدِيمًا كَانَ أَوْ حَدِيثًا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”قَدِيمًا“، قُلْتُ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ أَحَبَّهُمَا اللَّهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا اشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تجھ میں دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ دو خصلتیں کیا ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حلم و بردباری اور حیا۔ میں نے عرض کیا: یہ خصلتیں مجھ میں پیدائشی ہیں یا ابھی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پہلے سے ہیں۔ میں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے میرے اندر دو خصلتیں پیدا کیں ہیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 584]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25342 و أحمد: 17828 و النسائي فى الكبرىٰ: 7699 - انظر المشكاة: 625»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 585 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، وَذَكَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ‏:‏ ”إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ‏:‏ الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا اشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، بردباری اور وقار۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 585]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 26، 18 - انظر المشكاة: 5054، التحقيق الثاني»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 586 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ‏:‏ ”إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ‏:‏ الْحِلْمُ وَالأنَاةُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا اشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: حلم و بردباری اور وقار و ٹھہراؤ۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 586]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 25، 17 و الترمذي: 2011 و ابن ماجه: 4188 - انظر المشكاة: 5054»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 587 الادب المفرد
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي هُودُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ جَدَّهُ مَزِيدَةَ الْعَبْدِيَّ قَالَ‏:‏ جَاءَ الأَشَجُّ يَمْشِي حَتَّى أَخَذَ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَمَا إِنَّ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ“، قَالَ‏:‏ جَبْلاً جُبِلْتُ عَلَيْهِ، أَوْ خُلِقَا مَعِي‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”لَا، بَلْ جَبْلاً جُبِلْتَ عَلَيْهِ“، قَالَ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا مزیدہ عبدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا اشج رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اسے بوسہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اندر دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا یہ میری پیدائشی صفات ہیں یا بعد میں پیدا ہوئیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تیرے اندر فطری ہیں۔ انہوں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ان صفات پر پیدا فرمایا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 587]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه المصنف فى خلق أفعال العباد، ص: 60 و ابن أبى عاصم فى الآحاد و المثاني: 1690 و أبويعلي: 6815»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف