حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي هُودُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ جَدَّهُ مَزِيدَةَ الْعَبْدِيَّ قَالَ: جَاءَ الأَشَجُّ يَمْشِي حَتَّى أَخَذَ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَمَا إِنَّ فِيكَ لَخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ“، قَالَ: جَبْلاً جُبِلْتُ عَلَيْهِ، أَوْ خُلِقَا مَعِي؟ قَالَ: ”لَا، بَلْ جَبْلاً جُبِلْتَ عَلَيْهِ“، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَرَسُولُهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا مزیدہ عبدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا اشج رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اسے بوسہ دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے اندر دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔“ انہوں نے کہا: کیا یہ میری پیدائشی صفات ہیں یا بعد میں پیدا ہوئیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تیرے اندر فطری ہیں۔“ انہوں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ان صفات پر پیدا فرمایا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 587]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه المصنف فى خلق أفعال العباد، ص: 60 و ابن أبى عاصم فى الآحاد و المثاني: 1690 و أبويعلي: 6815»
الحكم: ضعيف