بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مریض کیا جواب دے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب مریض کیا جواب دے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 528 الادب المفرد
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ هُوَ؟ قَالَ: صَالِحٌ، قَالَ: مَنْ أَصَابَكَ؟ قَالَ: أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلاحِ فِي يَوْمٍ لا يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ، يَعْنِي: الْحَجَّاجَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سعید بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حجاج بن یوسف سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں بھی وہیں تھا۔ اس نے پوچھا: آپ کا کیا حال ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ٹھیک ہوں۔ حجاج نے کہا: کس نے آپ کو زخمی کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس نے زخمی کیا ہے جس نے اس دن اسلحہ اٹھانے کا حکم دیا، جس دن اسلحہ اٹھانا جائز نہ تھا، یعنی حجاج نے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 528]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العيدين، باب يكره من حمل السلاح فى العيد و الحرم: 966، 967»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح