حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ غُلامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ: ”أَسْلِمْ“، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر فرمایا: ”اسلام قبول کر لو۔“ اس لڑکے نے یہ سن کر سرہانے کھڑے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات مان لو، چنانچہ وہ لڑکا مسلمان ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس سے باہر تشریف لائے تو فرما رہے تھے: ”ہر قسم کی تعریف اس ذات کے لیے ہے جس نے اسے آگ سے بچا لیا۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 524]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي فمات: 1356، 5657 و أبوداؤد: 3095»
الحكم: صحيح