بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مریض کا ہر وہ اچھا عمل لکھا جاتا ہے جو وہ حالتِ صحت میں کرتا تھا
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب مریض کا ہر وہ اچھا عمل لکھا جاتا ہے جو وہ حالتِ صحت میں کرتا تھا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 500 الادب المفرد
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”مَا مِنْ أَحَدٍ يَمْرَضُ، إِلا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے تو اسے اس کے ہر اس عمل پر ثواب دیا جاتا ہے جو وہ حالت صحت میں کرتا تھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 500]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 6870 و الدارمي: 2812 و هناد فى الزهد: 438 و الحاكم: 499/1 - انظر الإرواء: 346/2»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 501 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِنَانٌ أبورَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ ابْتَلاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ إِلا كُتِبَ لَهُ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي صِحَّتِهِ، مَا كَانَ مَرِيضًا، فَإِنْ عَافَاهُ أُرَاهُ قَالَ: عَسَلَهُ، وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ.“ حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ قَالَ: ”فَإِنْ شَفَاهُ عَسَلَهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کو اللہ تعالیٰ کسی جسمانی بیماری میں مبتلا کرے تو جب تک وہ بیمار رہتا ہے تو اسے ان اعمال کا ثواب ملتا ہے جو وہ صحت کے زمانہ میں کرتا تھا۔ پھر اگر اسے عافیت دے دے تو موت سے پہلے نیکی کی توفیق دے دیتا ہے، اور اگر اس کو وفات دے دے تو اسے بخش دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اگر اسے شفا دے تو اس کو وفات سے قبل نیکی کی توفیق دے دیتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 501]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: أخرجه أحمد: 12503 و ابن أبى شيبة: 10831 و ابن أبى الدنيا فى المرض و الكفارات: 160 و أبويعلى: 4233 و البيهقي فى الشعب: 325/12 - انظر الإرواء: 346/2»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 502 الادب المفرد
حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ الْحُمَّى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: ابْعَثْنِي إِلَى آثَرِ أَهْلِكَ عِنْدَكَ، فَبَعَثَهَا إِلَى الأَنْصَارِ، فَبَقِيَتْ عَلَيْهِمْ سِتَّةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُمْ فِي دِيَارِهِمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ دَارًا دَارًا، وَبَيْتًا بَيْتًا، يَدْعُو لَهُمْ بِالْعَافِيَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ تَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، إِنِّي لِمَنَ الأَنْصَارِ، وَإِنَّ أَبِي لِمَنَ الأَنْصَارِ، فَادْعُ اللَّهَ لِي كَمَا دَعَوْتَ لِلأَنْصَارِ، قَالَ: ”مَا شِئْتِ، إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ، وَإِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ“، قَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلا أَجْعَلُ الْجَنَّةَ خَطَرًا.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بخار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ مجھے ان لوگوں کی طرف بھیجیں جن سے آپ کو بہت زیادہ تعلق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے انصار کے پاس بھیج دیا۔ ان پر بخار چھ دن اور چھ راتیں رہا۔ یہ تکلیف انہیں بہت گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھروں میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھر گھر جا کر ان کے لیے عافیت کی دعا کی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے تو ان کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آئی اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! یقیناً میں بھی انصار سے ہوں۔ میرا باپ بھی انصاری ہی ہے، لہٰذا میرے لیے بھی دعا کریں جس طرح آپ نے انصار کے لیے دعا کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو کیا چاہتی ہے، اگر تو چاہتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ تجھے عافیت دے، اور اگر تو چاہے تو صبر کر اور تیرے لیے جنت ہے۔ اس نے عرض کیا: بلکہ میں صبر کروں گی اور جنت میں داخلے کو خطرے میں نہیں ڈالوں گی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 502]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البيهقي فى الشعب الإيمان: 9496 - انظر الصحيحة: 2502»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 503 الادب المفرد
وَعَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا مِنْ مَرَضٍ يُصِيبُنِي أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْحُمَّى، لأَنَّهَا تَدْخُلُ فِي كُلِّ عُضْوٍ مِنِّي، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يُعْطِي كُلَّ عُضْوٍ قِسْطَهُ مِنَ الأَجْرِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بخار سے زیادہ مجھے کوئی بیماری محبوب نہیں کیونکہ وہ جسم کے ہر جوڑ میں داخل ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر عضو کو اس کے حصے کا اجر عطا فرماتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 503]
تخریج الحدیث
صحيح: أخرجه ابن أبي شيبة: 10817 و ابن أبي الدنيا في المرض و الكفارات: 240 و البيهقي في شعب الإیمان: 9407 و الدلابي في الكني: 1742 و الطبراني في الكبير: 378/22
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 504 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُحَيْلَةَ، قِيلَ لَهُ: ادْعُ اللَّهَ، قَالَ:اللَّهُمَّ انْقُصْ مِنَ الْمَرَضِ، وَلا تَنْقُصْ مِنَ الأَجْرِ، فَقِيلَ لَهُ: ادْعُ، ادْعُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الْمُقَرَّبِينَ، وَاجْعَلْ أُمِّي مِنَ الْحُورِ الْعِينِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو نحیلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے کہا گیا: دعا کیجیے۔ انہوں نے یوں دعا کی: اے اللہ بیماری کو کم کر دے لیکن اجر میں کمی نہ کرنا۔ ان سے عرض کیا گیا: مزید دعا کریں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل فرما اور میری والدہ کو حورعین کے ساتھ ملا دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 504]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسدد كما فى إتحاف المهرة: 474/6»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 505 الادب المفرد
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت دکھاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ سیاہ فام عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: مجھے بے ہوشی کا دورہ پڑتا ہے اور میں بے لباس ہو جاتی ہوں، لہٰذا میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو صبر کرو، اس کے بدلے میں تیرے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو الله تعالیٰ سے تمہارے لیے عافیت کی دعا کرتا ہوں۔“ اس نے عرض کیا: میں صبر کرتی ہوں، پھر کہا: میرے کپڑے اتر جاتے ہیں، لہٰذا اللہ سے دعا فرمائیں کہ کپڑے نہ اترا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے یہ دعا فرمائی۔
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت دکھاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ سیاہ فام عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: مجھے بےہوشی کا دورہ پڑتا ہے اور میں بے لباس ہو جاتی ہوں، لہٰذا میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو صبر کرو، اس کے بدلے میں تیرے لیے جنت ہے، اور اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے عافیت کی دعا کرتا ہوں۔ اس نے عرض کیا: میں صبر کرتی ہوں، پھر کہا: میرے کپڑے اتر جاتے ہیں، لہٰذا اللہ سے دعا فرمائیں کہ کپڑے نہ اترا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے یہ دعا فرمائی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 505]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب المرضى، باب فضل من يصرع من الريح: 5652 و مسلم: 2576 - انظر الصحيحة: 2502»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 506 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ رَأَى أُمَّ زُفَرَ، تِلْكَ الْمَرْأَةُ، طَوِيلَةً سَوْدَاءَ عَلَى سُلَّمِ الْكَعْبَةِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ الْقَاسِمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: ”مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا، فَهُوَ كَفَّارَةٌ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے بتایا کہ انہوں نے سیدہ ام زفر رضی اللہ عنہا کو کعبہ کی سیڑھیوں پر دیکھا کہ وہ لمبے قد کی تھیں اور ان کا رنگ کالا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: مومن کو اگر کانٹا چبھے یا اس سے بھی کم تکلیف پہنچے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 506]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري: 5652 و أخرجه أحمد: 25676 و معناه فى البخاري: 5640 و مسلم: 2572»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 507 الادب المفرد
حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فِي الدُّنْيَا يَحْتَسِبُهَا، إِلا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کسی مسلمان کو دنیا میں کوئی کانٹا لگ جاتا ہے اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھتا ہے تو قیامت کے دن اس کی وجہ سے ضرور اس کی خطاؤں میں کمی کی جائے گی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 507]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 9219 و ابن أبى الدنيا فى المرض و الكفارات: 38 - انظر الصحيحة: 2503»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 508 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُمَرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابوسُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”مَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ، وَلا مُسْلِمٍ وَلا مَسْلَمَةٍ، يَمْرَضُ مَرَضًا إِلا قَصَّ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب کوئی مومن مرد یا عورت، اسی طرح مسلمان مرد یا عورت کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے ذریعے سے اس کے گناہ کم کر دیتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 508]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 15146 و الطيالسي: 1882 و أبويعلى: 2305 - انظر الصحيحة: 2503»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح