بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
رہنے کے لیے گھر بنانے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب السرف فى البناء رہنے کے لیے گھر بنانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 453 الادب المفرد
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَلاَّمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ حَبَّةَ بْنِ خَالِدٍ، وَسَوَاءَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ حَائِطًا أَوْ بِنَاءً لَهُ، فَأَعَانَاهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا حبہ بن خالد اور سیدنا سواء بن خالد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دیوار اور عمارت درست کر رہے تھے، تو ان دونوں نے آپ کی معاونت کی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 453]
تخریج الحدیث
«ضعيف: الضعيفة: 4798 - قلت أخرجه ابن ماجه: 4165»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 454 الادب المفرد
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ‏:‏ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ، وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ، فَقَالَ‏:‏ إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تُنْقِصْهُمُ الدُّنْيَا، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لاَ نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلاَّ التُّرَابَ، وَلَوْلاَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے ہاں گئے جبکہ انہوں نے اپنے جسم پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہمارے جو دوست ہم سے پہلے تھے، وہ دنیا سے چلے گئے اور دنیا نے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ کی۔ اور ہم ہیں کہ ہمیں اس قدر وافر مال ملا ہے کہ مٹی کے سوا ہمیں اس کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں موت کی دعا کر لیتا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 454]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب المرضيٰ، باب تمنى المريض الموت: 5672 و مسلم: 2681، مختصرًا و الترمذي: 2483 و النسائي: 1823 و ابن ماجه: 4163 - انظر صحيح أبى داؤد: 2721»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 455 الادب المفرد
ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى، وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ‏:‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلاَّ فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي التُّرَابِ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ایک دفعہ ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: بلاشبہ مسلمان جو چیز بھی خرچ کرتا ہے اسے اس کا ضرور اجر و ثواب ملتا ہے سوائے اس چیز کے جو وہ مٹی میں خرچ کرتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 455]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، انظر الحديث السابق»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 456 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عُمَرُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أُصْلِحُ خُصًّا لَنَا، فَقَالَ‏:‏ ”مَا هَذَا‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ أُصْلِحُ خُصَّنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ‏:‏ ”الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ‏.“‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو میں اپنا جھونپڑا ٹھیک کر رہا تھا (جو کہ بوسیدہ ہو گیا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا کر رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنی جھونپڑی ٹھیک کر رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: معاملہ (موت) اس سے زیادہ جلدی آنے والا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 456]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء فى البناء: 5235 و الترمذي: 2335 و ابن ماجه: 4160»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح