حَدَّثَنَا عُمَرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أُصْلِحُ خُصًّا لَنَا، فَقَالَ: ”مَا هَذَا؟“ قُلْتُ: أُصْلِحُ خُصَّنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: ”الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا تو میں اپنا جھونپڑا ٹھیک کر رہا تھا (جو کہ بوسیدہ ہو گیا تھا)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا کر رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنی جھونپڑی ٹھیک کر رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ (موت) اس سے زیادہ جلدی آنے والا ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّرَفِ فِي الْبِنَاءِ/حدیث: 456]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء فى البناء: 5235 و الترمذي: 2335 و ابن ماجه: 4160»
الحكم: صحيح