بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس کی زیارت کے لیے جائے اس کے پاس کھانا کھانے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب الزيارة جس کی زیارت کے لیے جائے اس کے پاس کھانا کھانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 347 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا خَرَجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا لَهُمْ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو شرف زیارت بخشا تو ان کے ہاں کھانا کھایا۔ جب واپس تشریف لانے لگے تو گھر میں ایک جگہ کے بارے (صاف کرنے کا) حکم دیا۔ چنانچہ ایک چٹائی پر چھینٹے مار کر اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے بچھا دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ان کے لیے دعا کی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الزِّيَارَةِ/حدیث: 347]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب الزيارة: 6080»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 348 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ‏:‏ جَاءَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ إِلَى أَبِي الْعَالِيَةِ، وَعَلَيْهِ ثِيَابُ صُوفٍ، فَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ‏:‏ إِنَّمَا هَذِهِ ثِيَابُ الرُّهْبَانِ، إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا تَزَاوَرُوا تَجَمَّلُوا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو خلدہ سے روایت ہے کہ ابو امیہ عبدالکریم ابو العالیہ کے پاس گئے تو انہوں نے اونی کپڑے پہن رکھے تھے۔ ابو العالیہ نے فرمایا: یہ تو راہبوں کا لباس ہے۔ مسلمانوں کا تو یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پاس جاتے تو بن سنور کر جاتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الزِّيَارَةِ/حدیث: 348]
تخریج الحدیث
«صحيح مقطوع: أخرجه ابن سعد فى الطبقات: 115/7 و أبونعيم فى الحلية: 217/2»
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
الحكم: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 349 الادب المفرد
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ‏:‏ وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ اشْتَرِ هَذِهِ، وَالْبَسْهَا عِنْدَ الْجُمُعَةِ، أَوْ حِينَ تَقْدِمُ عَلَيْكَ الْوُفُودُ، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ‏:‏ ”إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ“، وَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى أُسَامَةَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ، لَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ‏؟‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”تَبِيعُهَا، أَوْ تَقْضِي بِهَا حَاجَتَكَ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے موٹے ریشم کا ایک جبہ (فروخت ہوتے) دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ یہ جبہ خرید لیں اور جمعہ کے دن اور (ملاقاتی) وفود کی آمد کے موقع پر زیب تن فرما لیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو صرف وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ جبے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو، ایک سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اور ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ مجھے بھیج دیا ہے حالانکہ آپ نے ایسے جبے کے بارے میں جو فرمایا ہے میں وہ آپ سے سن چکا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ دو یا اس کے ذریعے اپنی کوئی ضرورت پوری کر لو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الزِّيَارَةِ/حدیث: 349]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الجمعة، باب يلبس أحسن ما يجد: 886، 6081 و مسلم: 2068 و النسائي: 5300 و أبوداؤد: 1076»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح