بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ایک دوسرے کی بے جا تعریف کی ممانعت
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب ایک دوسرے کی بے جا تعریف کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 333 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ“، يَقُولُهُ مِرَارًا، ”إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ‏:‏ أَحْسَبُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ، وَحَسِيبُهُ اللَّهُ، وَلاَ يُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر ہوا تو ایک دوسرے آدمی نے اس کی (مبالغہ آمیز) تعریف کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: افسوس ہے تجھے! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بار بار یہ بات دہراتے رہے، (پھر فرمایا:) اگر کوئی ضرور کسی کی تعریف کرنا چاہتا ہے تو وہ یوں کہے: میرے خیال میں وہ ایسا ایسا ہے، اگر واقعی وہ اسے ایسا سمجھتا ہے تو (ان الفاظ میں تعریف کر دے) ساتھ یوں بھی کہے: صحیح علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ وہی حساب لینے والا ہے اور وہ اللہ کے مقابلے میں کسی کا تزکیہ نہ کرے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 333]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الشهادات، باب إذا ذكي رجل رجلا كفاه: 2662 و مسلم: 3000 و أبوداؤد: 4805 و ابن ماجه: 3744»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 334 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ‏:‏ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاً يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَهْلَكْتُمْ“، أَوْ ”قَطَعْتُمْ، ظَهْرَ الرَّجُلِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی سے سنا کہ وہ کسی کی تعریف کر رہا ہے اور خوب مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو ہلاک کر دیا۔ یا یوں فرمایا: تم نے اس آدمی کی کمر توڑ دی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 334]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب ما يكره من التماد ح: 6060 و مسلم: 3001»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 335 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ، فَأَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ‏:‏ عَقَرْتَ الرَّجُلَ، عَقَرَكَ اللَّهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
یزید بن شریک تیمی سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی موجودگی میں تعریف کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے اس آدمی کو ہلاک کر دیا، اللہ تجھے ہلاک کرے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 335]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه ابن أبى شيبة: 26262 و الحربي فى غريب الحديث: 994/3»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 336 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ‏:‏ الْمَدْحُ ذَبْحٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ‏:‏ يَعْنِي إِذَا قَبِلَهَا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تعریف کرنا ذبح کر دینا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: ذبح اس وقت ہو گا جب وہ تعریف قبول کرے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 336]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد فى الزهد: 614 و ابن أبى شيبة: 26263 و ابن أبى الدنيا فى الصمت: 602»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح