حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ، قَطُّ، وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ: أَلاَ كُنْتَ فَعَلْتَهُ؟ وَلاَ لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَهُ؟.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دس سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، اور اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کہا: تو نے یہ کیوں نہیں کیا؟ اور نہ کبھی ایسا ہوا کہ میں نے کوئی کام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ کہا ہو کہ تو نے یہ کیوں کیا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 277]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب حسن الخلق و السخاء و ما يكره من البخل: 6038 و مسلم: 2309 و أبوداؤد: 4874 و الترمذي: 2015»
الحكم: صحيح