حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الاسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا سَحَّامَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا، وَكَانَ لاَ يَأْتِيهِ أَحَدٌ إِلاَّ وَعَدَهُ، وَأَنْجَزَ لَهُ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِثَوْبِهِ فَقَالَ: إِنَّمَا بَقِيَ مِنْ حَاجَتِي يَسِيرَةٌ، وَأَخَافُ أَنْسَاهَا، فَقَامَ مَعَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَصَلَّى.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے رحیم و شفیق تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جو (سائل) بھی آتا (نہ ہونے کی صورت میں) اس سے وعدہ فرما لیتے اور اگر ہوتا تو اسے ضرور دیتے۔ ایک دفعہ نماز کی اقامت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پلو پکڑ لیا اور کہا: میرا بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے، مجھے خدشہ ہے کہ پھر بھول نہ جاؤں اس لیے میری بات سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہے حتی کہ اس نے اپنی بات پوری کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آ کر نماز پڑھائی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 278]
تخریج الحدیث
«حسن: الصحيحة: 2094 - أخرجه المصنف فى التاريخ: 211/4 و المزي فى تهذيب الكمال: 207/10 و قصة تاخير الصلاة بعد الاقامة فى الصحيح: 642 و مسلم: 376»
الحكم: حسن