حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: ”يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ.“ قَالَ أَبُو قِلابَةَ: فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعُبْتُمُوهَا عَلَيْهِ، قَوْلُهُ: ”سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کچھ بیویوں کے پاس تشریف لائے اور ان (بیویوں) کے ساتھ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔“ راوی حدیث ابو قلابہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا حکم ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کہتا تو تم اسے اچھا نہ سمجھتے۔ میری مراد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ کہنا: ”آبگینوں کو احتیاط سے لے کر چلو۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 264]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب ما يجوز من الشعر و الرجز و الحداء: 6149 و مسلم: 2323»
الحكم: صحيح