بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مذاق کرنے کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب مذاق کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 264 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ‏:‏ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ‏.‏“ قَالَ أَبُو قِلابَةَ: فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعُبْتُمُوهَا عَلَيْهِ، قَوْلُهُ: ”سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی کچھ بیویوں کے پاس تشریف لائے اور ان (بیویوں) کے ساتھ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انجشہ! شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔ راوی حدیث ابو قلابہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا حکم ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کہتا تو تم اسے اچھا نہ سمجھتے۔ میری مراد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ کہنا: آبگینوں کو احتیاط سے لے کر چلو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 264]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب ما يجوز من الشعر و الرجز و الحداء: 6149 و مسلم: 2323»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 265 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالُوا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِنِّي لاَ أَقُولُ إِلا حَقًّا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں (مذاق میں بھی) جو بات کرتا ہوں وہ حق ہوتی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 265]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الترمذي، البر و الصلة، باب ماجاء فى المزاح: 1990 و أحمد: 360/2 - من حديث ابن المبارك به الصحيحة: 1726»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 266 الادب المفرد
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ حَبِيبٍ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَادَحُونَ بِالْبِطِّيخِ، فَإِذَا كَانَتِ الْحَقَائِقُ كَانُوا هُمُ الرِّجَالَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
بکر بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام بطور مزاح ایک دوسرے کی طرف خربوزے پھینکتے تھے لیکن جب حقائق (مثلاً غیرت و دفاع) کا معاملہ ہوتا تو وہ مردکار ہوتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 266]
تخریج الحدیث
«صحيح: الصحيحة: 435 - ن»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 267 الادب المفرد
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ‏:‏ مَزَحَتْ عَائِشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ أُمُّهَا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، بَعْضُ دُعَابَاتِ هَذَا الْحَيِّ مِنْ كِنَانَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”بَلْ بَعْضُ مَزْحِنَا هَذَا الْحَيُّ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے مذاق کی کوئی بات کہی تو ان کی والدہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (آپ محسوس نہ فرمایئے گا) اس قبیلے میں مذاق کی کئی باتیں بنو کنانہ سے آ گئی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمارے بعض مذاق بھی اسی قبیلے کے ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 267]
تخریج الحدیث
«ضعيف: رواه ابن عساكر فى تاريخه: 36/4، فوصله فقال فيه، ابن أبى مليكة عن عائشة، وقال الذهبي عن إسناده فى تاريخ الإسلام: 773/1، حمزة لا اعرفه، و المتن منكر»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 268 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ‏:‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ‏:‏ ”أَنَا حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ“، قَالَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَةٍ‏؟‏ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”وَهَلْ تَلِدُ الإِبِلَ إِلاَّ النُّوقُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سواری طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کرا دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنتی ہیں؟ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 268]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب ماجاء فى المزاح: 4998 و الترمذي: 1991»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح