بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
آدمی اپنے اہلِ خانہ کا ذمہ دار ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب آدمی اپنے اہلِ خانہ کا ذمہ دار ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 212 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ، أَلاَ وَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سب ذمہ دار ہو اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی، چنانچہ امیر وقت نگران ہے اور مسئول بھی ہے، اور آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔ خبردار! تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 212]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب النكاح: 5188 و مسلم: 1825»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 213 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ‏:‏ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا، فَسَأَلْنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِينَا‏؟‏ فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا، فَقَالَ‏:‏ ”ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ ہم، ہم عمر نوجوان تھے، چنانچہ ہم بیس راتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہم گھر والوں کے لیے اداس ہو گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے اہل و عیال کے متعلق پوچھا کہ کسی کا کون ہے؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے نرم مزاج اور مہربان تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں تعلیم دو، اور (اسلامی احکام پر عمل کا) حکم دو، اور نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک تمہارے لیے اذان دے، اور جو تم میں سے بڑا ہے وہ امامت کروائے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 213]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب رحمة الناس و البهائم: 6008 و مسلم: 1567 و النسائي: 635 - الإرواء: 213»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح