حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا، فَسَأَلْنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِينَا؟ فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا، فَقَالَ: ”ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ ہم، ہم عمر نوجوان تھے، چنانچہ ہم بیس راتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں ٹھہرے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہم گھر والوں کے لیے اداس ہو گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے اہل و عیال کے متعلق پوچھا کہ کسی کا کون ہے؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے نرم مزاج اور مہربان تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں تعلیم دو، اور (اسلامی احکام پر عمل کا) حکم دو، اور نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک تمہارے لیے اذان دے، اور جو تم میں سے بڑا ہے وہ امامت کروائے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 213]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب رحمة الناس و البهائم: 6008 و مسلم: 1567 و النسائي: 635 - الإرواء: 213»
الحكم: صحيح