حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ: قَالَ مَعْرُورٌ: مَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَعَلَى غُلاَمِهِ حُلَّةٌ، فَقُلْنَا: لَوْ أَخَذْتَ هَذَا وَأَعْطَيْتَ هَذَا غَيْرَهُ، كَانَتْ حُلَّةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
معرور سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو (دیکھا کہ) ان پر ایک معمولی کپڑا ہے اور غلام نے ایک جوڑا پہن رکھا ہے۔ ہم نے عرض کیا: اگر آپ یہ اس غلام سے لے لیتے اور اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے تو آپ کا سوٹ بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے، لہٰذا جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھائے اسے بھی وہی کھلائے، اور اسے بھی وہی پہنائے جو خود پہنے۔ اور اس پر اتنی مشقت نہ ڈالے کہ وہ دب جائے، اور اگر اس پر اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام ڈالا تو اس پر اس کی مدد کرے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 194]
تخریج الحدیث
«صحيح: تقدم برقم: 189»
الحكم: صحيح