بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس نے غلام کو تھپڑ مارا بہتر ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب جس نے غلام کو تھپڑ مارا بہتر ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 176 الادب المفرد
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ هِلاَلَ بْنَ يَسَافٍ يَقُولُ‏:‏ كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ شَيْئًا، فَلَطَمَهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ‏:‏ أَلَطَمْتَ وَجْهَهَا‏؟‏ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا بَعْضُنَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْتِقُهَا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
بلال بن یساف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں کپڑا بیچ رہے تھے کہ ایک لونڈی نکلی اور اس نے ایک آدمی سے کچھ کہا تو اس آدمی نے اسے تھپڑ مار دیا۔ اس پر سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تو نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا ہے؟ یقیناً میں سات (بھائیوں) میں سے ساتواں تھا اور ہماری صرف ایک ہی خادمہ تھی، تو ہم میں سے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے آزاد کر دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 176]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 1658 و أبوداؤد: 5166 و الترمذي: 1542»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 177 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ أَوْ ضَرَبَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا، یا بغیر قصور کے مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 177]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 1657 و أبوداؤد: 5168 - الإرواء: 2173»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 178 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ‏:‏ لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَفَرَّ، فَدَعَانِي أَبِي فَقَالَ لَهُ‏:‏ اقْتَصَّ، كُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ سَبْعَةً، لَنَا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ ”مُرْهُمْ فَلْيُعْتِقُوهَا“، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرَهَا، قَالَ‏:‏ ”فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا خَلُّوا سَبِيلَهَا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
معاویہ بن سوید بن مقرن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا تو وہ بھاگ گیا۔ میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا کہ تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔ ہم مقرن کے سات بیٹے تھے اور ہماری صرف ایک خادمہ تھی۔ ہم میں سے ایک بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اسے آزاد کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ان کا اس کے علاوہ کوئی خدمت کرنے والا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس سے خدمت لیں اور جب اس کی ضرورت نہ رہے تو اسے آزاد کر دیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 178]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 1658 و أبوداؤد: 5167»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 179 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ‏:‏ مَا اسْمُكَ‏؟‏ فَقُلْتُ‏:‏ شُعْبَةُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، وَرَأَى رَجُلاً لَطَمَ غُلاَمَهُ، فَقَالَ‏:‏ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ‏؟‏ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةِ إِخْوَةٍ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا إِلاَّ خَادِمٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا سوید بن مقرن المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا ہے، تو فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ چہرے پر مارنا حرام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں دیکھا کہ ہم سات بھائی تھے، اور ہماری صرف ایک خادمہ تھی۔ ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 179]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان: 1658 و أبوداؤد: 5166»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 180 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ‏:‏ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَدَعَا بِغُلاَمٍ لَهُ كَانَ ضَرَبَهُ فَكَشَفَ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ‏:‏ أَيُوجِعُكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ لاَ‏.‏ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ رَفَعَ عُودًا مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ‏:‏ مَالِي فِيهِ مِنَ الأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا الْعُودَ، فَقُلْتُ‏:‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ تَقُولُ هَذَا‏؟‏ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْ قَالَ‏:‏ ”مَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَ وَجْهَهُ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
زاذان ابو عمر سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلایا جسے انہوں نے مارا تھا۔ اس کی کمر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: کیا تجھے درد ہوتی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ پھر ایک لکڑی زمین سے پکڑی اور فرمایا: اس میں میرے لیے اس لکڑی کے وزن کے برابر بھی ثواب نہیں۔ میں نے کہا: ابو عبدالرحمن! تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے غلام کو بغیر قصور کے مارا یا اسے طمانچہ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 180]
تخریج الحدیث
«صحيح: تقدم برقم: 177»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح